ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاستی وزیر ایشورپا پرغداری کا مقدمہ چلایا جائے گا:کانگریس کا الٹی میٹم، قومی ترنگے اور آئین کی خلاف ورزی جنونی وزیرکو مہنگی پڑی

ریاستی وزیر ایشورپا پرغداری کا مقدمہ چلایا جائے گا:کانگریس کا الٹی میٹم، قومی ترنگے اور آئین کی خلاف ورزی جنونی وزیرکو مہنگی پڑی

Thu, 17 Feb 2022 10:56:50    S.O. News Service

بنگلورو،17؍ فروری(ایس او نیوز) ریاستی وزبرائے دیہی ترقیات وپنچایت راج کے ایس ایشورپا اپنے متنازع بیانات اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کیلئے کافی بدنام ہیں اور اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے ہمیشہ شہ سرخیوں میں رہتے ہیں - بعض موقعوں پر انہیں خود اس کا علم نہیں رہتا کہ وہ جو بیان دے رہے ہیں درست ہے یا غلط -ایک ہفتہ قبل شیموگہ میں حجاب بمقابلہ کیسری شال تنازع کے درمیان انہوں نے ایک ایسا متنازعہ بیان دے دیا تھاکہ انہیں یہ کہنا کافی مہنگا پڑا اور اب اپوزیشن کانگریس انہیں وزارت سے فوری برطرف کرکے ان کے خلاف ملک اورملک کے آئین سے غداری کرنے کا معاملہ درج کرنے کاپر زور مطالبہ کیا گیا ہے-

شیموگہ کی ایک سرکاری کالج میں 9 فروری کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے پس منظر والے طلباء نے حجاب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سنگھ پریوار کے کیسری رنگ کا جھنڈا اس پول پر لہرا دیا جہاں یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر قومی ترنگا لہرایا جاتا ہے -جب میڈیا والوں نے قومی ترنگے کی خلاف ورزی والے عمل پر ایشورپا سے پوچھا تو انہوں نے یہ کہاتھاکہ آگے دیکھیں ہم بہت جلد لال قلعہ پر کیسری پر پرچم لہرائیں گے - ریاست میں اپوزیشن کانگریس نے ایشورپا کے اس متنازعہ بیان کو ریاست میں سلگتے ہوئے حجاب تنازعہ سے زیادہ سنجیدہ لیا ہے اوراس معاملہ کو پوری شدت کے ساتھ ریاستی اسمبلی اورریاستی قانون ساز کونسل میں اٹھایا-

صیغہ واحد میں گفتگو:اس معاملہ پر بحث کرتے ہوئے کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار اور ایشورپا کے درمیان اسمبلی میں لفظی جھڑپ ہوئی -دونوں نے ایک دوسرے کو صیغہ واحد میں مخاطب کیا یہاں تک کہ ایشورپا نے شیوکمار کے اہل خانہ کو بھی گالی گلوج کی اس پر کانگریس اراکین اور اپوزیشن کانگریس لیڈر سدارامیا نے سخت اعتراض کیا اورایوان میں ایشورپا اور قومی ترنگے کی توہین کرنے والے ایشورپا کے خلاف کارروائی نہ کرنے والی بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ایشورپا کو وزارت سے فوری برطرف کرنے اوران کے خلاف ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے کنویں میں دھرنا شروع کردیا اور رول 64 کے تحت توجہ طلب نوٹس دیتے ہوئے سدارامیا نے اس موضوع پر بحث کی اجازت مانگی-لیکن اسپیکر نے بحث کی اجازت دینے سے انکارکردیا -پھر سدارامیا نے انہیں تحریک التواء پیش کیا تھا اس میں بحث کی اجازت طلب کی تو ایوان میں شوروغل کو دیکھتے ہوئے اسپیکر ویشویشور ہیگڈے لمگیری نے ایوان کی کارروائی لنچ کیلئے ملتوی کردیا -

وقفہ لنچ کے بعد جب دوبارہ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو کانگریس اراکین اپنے ہاتھوں میں قومی ترنگے تھامے ہوئے دھرنے کو جاری رکھا تو اسپیکر نے کہاکہ اپنے دھرنے کیلئے قومی ترنگے کا استعمال کرنا درست نہیں -اسی دوران وزیراعلیٰ بسواراج بومئی نے کہاکہ ایشورپا نے نہیں تم کانگریس والے قومی ترنگے کی توہین کررہے ہو-ایوان میں اس شورشرابے کے دوران ہی اسپیکر نے سدارامیا کی جانب سے پیش تحریک التواء کو مسترد کرتے ہوئے جے ڈی ایس لیڈر کمارسوامی کو آواز دی کہ وہ اپنی تحریک التواء پر بحث شروع کریں جبکہ ایک ہی دن میں دو تحریک التواء لینے کی گنجائش نہیں -اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کل جمعرات صبح 11 بجے تک ملتوی کردی -

اس کے بعد کانگریس نے ریاستی حکومت کو الٹی میٹم دے دیا ہے کہ اگر حکومت نے کل صبح گیارہ بجے تک ایشورپا کو وزارت سے برطرف کرکے ان کے خلاف غداری کا معاملہ درج نہیں کیا تو کانگریس کا احتجاج اوردھرنا ایوان میں اور ایوان کے باہر جاری رہے گا-ایوان سے باہر ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سدارامیا، ڈی کے شیوکمار اورکونسل میں اپوزیشن کانگریس لیڈر ہری پرساد نے کہاکہ ایشورپا ہمیشہ آئین کو بدلنے اورقومی ترنگے کو تبدیل کرنے کے متنازعہ بیانات دیتے رہتے ہیں ان کے خلاف اب تک نہ آئین محافظ ریاستی گورنر نے کارروائی کی اورنہ ہی ریاستی وزیر اعلیٰ نے- اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے ایسے متنازع بیانات کیلئے ایشورپا کو آر ایس ایس اور بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے لیکن اس پر کانگریس خاموشی نہیں رہے گی-


Share: